Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مدرسے کے عمومی چندے سے چھت پر استاذ کے لیے رہائش بنا سکتے ہیں ؟
- Fatwa no.
- 1143-GRW
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ہمارے ہاں مدرسہ کی عمارت بنی ہوئی ہے، جہاں طلبہ کرام درس نظامی اور حفظ کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ہم اس مدرسے کے اوپر مدرس کے لیے فیملی رہائش بنانا چاہتے ہیں۔ کیا مدرسہ کے اوپر مدرسہ کے عمومی چندے سے مدرس کے لیے فیملی رہائش بنا سکتے ہیں؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں مدرسے کے عمومی چندے سے مدرسے کے اوپر مدرس کے لیے فیملی رہائش بنانا شرعاً جائز ہے۔ اس میں تفصیل یہ ہے کہ مسجد و مدرسہ کی آمدنی اس کے مصالح پر خرچ ہوتی ہے اور تعمیر مدرسہ کے بعد مدرسہ کے مصالح میں سے سب سے مقدم مدرس ہوتا ہے کہ اس سے مدرسہ کی آباد کاری ہوتی ہے ، جیسا کہ مسجد کا امام مصالح مسجد میں مقدم ہوتا ہے۔ لہذا امدرس کی رہائش بنانا مدرس کی ضرورت اور مدرسہ ہی کی مصلحت ہے ، تو جس طرح مسجد کو عین مسجد قرار دینے سے پہلے اس پر عمومی چندے سے امام کے لیے حجرہ بناسکتے ہیں، اسی طرح مدرسے پر بھی بنا سکتے ہیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.