Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مسبوق امام کے ساتھ تشہد میں شامل ہوا ہی تھا کہ امام کھڑا ہوگیا تو مسبوق کیا کرے ؟
- Fatwa no.
- 8977 FSD
Question
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ مقتدی امام کے ساتھ تشہد میں شامل ہوا ہی تھا کہ امام صاحب کھڑے ہو گئے اور اس کے تشہد مکمل کرنے سے پہلے ہی رکوع میں چلے گئے ، وہ التحیات مکمل کر کے امام صاحب کے رکوع میں جانے کے بعد کھڑا ہوا اور ایک تسبیح (یعنی ایک مرتبہ سبحان اللہ کہنے ) کی مقدار زک کر رکوع میں امام صاحب سے ملا، کیا اس کی نماز ہو گئی ؟
Answer (beginning)
قوانین شریعت کے مطابق نماز کے فرائض و واجبات میں بغیر کسی تاخیر کے امام کی پیروی کرناواجب ہے ، لیکن اگر امام کی پیروی کرنے میں کسی واجب کا ترک لازم آتا ہو، تو وہاں مقتدی کے لیے حکم یہ ہوتا ہے کہ وہ پہلے اس واجب کو ادا کرے، پھر امام کی پیروی کرے، اگر چہ اس واجب کو ادا کرنے میں امام دوسرے رکن میں چلا جائے اور چونکہ تشہد کا پڑھنا بھی واجب ہے، لہذا پوچھی گئی صورت میں چونکہ مقتدی نے تشہد کا واجب ادا کر لیا اور پھر قیام کارکن ادا کر کے امام کے ساتھ رکوع میں ملا، تو اس وجہ سے اس کی نماز ہو گئی۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.