Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
دومختلف شہروں میں دو بیویاں ہوں، تو شوہر کے لیے نماز میں قصر کرنے کا حکم
- Fatwa no.
- 8884 FSD
Question
(دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ زید فیصل آباد کا رہائشی ہے۔ اس کے والدین، بیوی اور بچے فیصل آباد میں ہیں۔ گھر بھی اس کا ذاتی ہے۔ وہ ملازمت کے لیے ہر ہفتے پانچ دن کے لیے اسلام آباد جاتا ہے۔ دو دن کے لیے فیصل آباد آتا ہے۔ اس نے اسلام آباد میں بھی دوسری شادی کر لی ہے۔ وہاں اس نے ذاتی گھر بھی لے لیا ہے اور دوسری بیوی کو ہمیشہ کے لیے وہیں رکھنے کا ذہن ہے۔ اب وہ ایک ہفتہ فیصل آباد اور ایک ہفتہ اسلام آبادرہائش رکھے گا۔ اس صورت میں وہ فیصل آباد اور اسلام آباد میں سے کہاں قصر نماز پڑھے گا اور کہاں پوری؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں فیصل آباد اور اسلام آباد دونوں شہروں میں زید پوری نماز ادا کرے گا کیونکہ اگر کسی آدمی کی دو بیویاں ہوں اور وہ دونوں مختلف شہروں میں رہتی ہوں، تو شرعی اعتبار سے شوہر کے لیے وہ دونوں شہر وطن اصلی ہوں گے ،لہذا ان میں سے جس جگہ بھی جائے گا، مقیم ہی کہلائے گا اور پوری نماز پڑھے گا۔ اگر کسی کی دو بیویاں دو مختلف شہروں میں رہتی ہوں، تو شوہر کے لیے وہ دونوں شہر وطن اصلی ہوں گے ، جیسا کہ فقیه النفس امام قاضی خان اوز جندی رَحْمَةُ الله تَعَالَى عَلَيْهِ سالِ وفات : 593ھ / 1196ء) لکھتے ہیں: ”ان تاهل بهما كان كل واحد من الموضعين وطنا اصلیالہ ترجمہ : اگر وہ شادی کر کے (بیویاں) دونوں…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.