Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
اگر بچہ عورت کا دوا سے اُترنے والا دودھ پئے تو رضاعت کا حکم؟
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم دوائی کی وجہ سے دودھ اتر آئے تو بچے کو پلانے سے رضاعت کا حکم دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین ان مسائل میں کہ (1) جس عورت کا بچہ نہ ہو وہ ایسی دوا کھا کر جس دوا کے کھانے سے دودھ آجاتا ہے کسی بچے کو دودھ پلادے تو کیا رضاعت ثابت ہو جائے گی ؟ (2) اگر بچہ گو دلینا ہو اور آگے چل کر اس سے پردے وغیرہ کا مسئلہ نہ ہو تو اسے رضاعی بیٹا بنانے کے لیے گواہ کیسے بنانے ہوں گے ؟ جواب (1) اگر دوائی سے دودھ آگیا تو بھی بچے کو دودھ پلانے سے عورت اور بچے کے مابین رضاعت ثابت ہو جائے گی ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.