Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

خنثٰی ( ہِجڑا/ خواجہ سرا )کسے کہتے ہیں اور وراثت میں اس کے حصے کا حکم ؟

Fatwa no.
1014-Jtl

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ میت کے ترکہ سے مردو عورت کا حصہ تو بیان کیا جاتا ہے کہ مرد کو اتنا مخصوص حصہ ملے گا اور عورت کو اتنا، پوچھنا یہ ہے کہ اگر کسی کی اولاد میں سے کوئی خنٹی ہو، تو کیا اس کو بھی حصہ ملے گا یا نہیں ؟ اگر ملے گا تو کتنا ملے گا؟ نیز یہ فرمائیں کہ شریعت میں خنٹی کو پہچانے کا کیا معیار ہے؟

Answer (beginning)

شرعی معیار کے مطابق جس پر خنثی مشکل کا اطلاق ہو جائے ، تو اس پر جس طرح باقی احکام دینیہ لاگو ہوتے ہیں، اسی طرح اس کو وراثت میں بھی حصہ دیا جاتا ہے۔ وہ اس طرح کہ اسے مرد و عورت تسلیم کر کے دیکھا جائے گا کہ دونوں صورتوں میں سے جس صورت میں اسے کم حصہ ملتا ہے ، وہی حصہ دیا جائے گا۔ مثلا: میت کی اولاد میں ایک بیٹا ، ایک بیٹی اور ایک حنفی ہے، تو خفی کو بیٹا تسلیم کرنے کی صورت میں دو گنا ملے گا اور بیٹی تسلیم کرنے کی صورت میں ایک گنا ملے گا، لہذا اسے بیٹی تسلیم کر کے کم حصہ دیا جائے گا یا دو صورتوں میں سے جس صورت میں اسے محروم رکھا جاسکتا ہے ، وہی صورت اختیار کی جائے گی۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.