Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

تکبیر تحریمہ کہنے کے بعد بیٹھنے سے پہلے امام نے سلام پھیردیا ،تو نماز کا حکم

Fatwa no.
7042-Pin

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر مقتدی امام کے قعدہ اخیرہ میں نماز میں اس طرح شامل ہوا کہ مقتدی نے تکبیر تحریمہ کہی، ابھی وہ بیٹھا نہیں تھا کہ امام نے سلام پھیر دیا، اب اس کو جماعت ملی یا نہیں ؟ اور وہ اپنی نماز کی بنا اسی پر کرے گا یا دوبارہ تکبیر تحریمہ کہہ کر اپنی نماز پڑھے گا؟ برائے کرم رہنمائی فرمائیں۔

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں اس شخص کو جماعت نہ ملی اور نہ ہی وہ اس تکبیر تحریمہ پر اپنی نماز کی بناء کر سکتا ہے، لہذا اسے نئی تکبیر کہہ کر نماز ادا کرنی ہو گی۔ تفصیل اس مسئلہ کی یہ ہے کہ جماعت ملنے اور اقتداء صحیح ہونے کے لیے شرط ہے کہ نمازی تکبیر تحریمہ کے بعد نماز کے کسی جزء میں امام کے ساتھ شریک ہو جائے، جبکہ مذکورہ صورت میں آنے والا شخص تکبیر تحریمہ کے بعد امام کے ساتھ کسی جزء میں شریک نہ ہو سکا، لہذا اس کی اقتد افاسد ہو گئی اور اصول یہ ہے کہ جب کسی وجہ سے اقتد افاسد ہو جائے، تو اس کی اپنی نماز بھی شروع نہیں ہو گی، کیونکہ پہلی تکبیر تو امام کے ساتھ شریک ہونے کے لیے کہی گئی ہے، جبکہ انفرادی نماز کی…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.