Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
جمعہ میں آخری دو سنتیں مُؤکدہ ہیں یا غیر مُؤکدہ ؟
- Fatwa no.
- 2319 -Aqs
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ نماز جمعہ میں فرضوں کے بعد جو چار سنتیں پڑھی جاتی ہیں ، ان کے بعد والی دو سنتیں مؤکدہ ہیں یا غیر مؤکدہ ہیں ؟
Answer (beginning)
نماز جمعہ میں فرضوں سے پہلے والی چار سنتیں بالا تفاق سنت مؤکدہ ہیں، البتہ فرضوں کے بعد والی سنتوں میں اختلاف ہے۔ امام اعظم ابو حنیفہ اور امام محمد رَحْمَةُ اللهِ عَلَيْهِمَا کے نزدیک فرضوں کے بعد صرف چار رکعات سنتیں ہیں اور وہ مؤکدہ ہیں، ان کے علاوہ سنتیں نہیں ہیں، جبکہ امام ابو یوسف رَحْمَةُ اللهِ عَلَيْهِ کے نزدیک فرضوں کے بعد ان چار رکعات سنتِ مؤکدہ کے بعد مزید دو سنتیں ہیں، لیکن آپ رَحْمَةُ الله عَلَيْهِ کے نزدیک بھی یہ مؤکدہ نہیں، غیر مؤکدہ ہیں ، ان کا پڑھنا افضل ہے اور ان کو پڑھنے کا ہی اہتمام کرنا چاہیے ، یہی موقف زیادہ احتیاط والا، افضل اور مختار ہے اور اسی پر اکثر مشائخ کا عمل ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.