Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
میاں بیوی کا ایک دوسرے کو بھائی، بہن کہنا کیسا ؟
- Fatwa no.
- 2553-Gul
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ میاں بیوی ایک دوسرے کو ہنسی مذاق میں بھائی بہن کہہ دیں جیسے بعض اوقات شوہر کے منہ سے بہن نکل جائے یا بیوی کے منہ سے بھائی نکل جائے، تو کیا اس سے نکاح پر کوئی اثر پڑتا ہے ؟ سنا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی زوجہ محترمہ کو بہن کہا تھا۔ اس کی کیا قیقت ہے؟
Answer (beginning)
شوہر کا اپنی بیوی کو ماں، بہن، بیٹی کہہ کر پکارنا یا یوں کہنا کہ تم میری ماں، بہن، باجی ہو، یا بیوی شوہر کو بھائی کہے ، تو یہ سب صورتیں حرام ہیں، جن سے تو بہ کرنا اس پر لازم ہے ، البتہ اس سے نکاح پر کچھ اثر نہیں پڑتا اور جہاں تک حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی زوجہ محترمہ حضرت سارہ رضی اللہ عنہا کو اپنی بہن کہہ کر پکارا تھا، تو اس کے متعلق تفصیل یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایسا مجبوری کے تحت توریہ کے طور پر کیا تھا، کیونکہ آپ کو ایک ظالم بادشاہ نے پکڑ لیا تھا اور اس کا طریقہ یہ تھا کہ جس مسافر کی بیوی خوبصورت دیکھتا، اسے طلاق دلوا کر خو د قبضہ کر لیتا تھا، اگر شوہر طلاق نہ دیتا، تو…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.