Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

ناپاک زمین خشک ہوگئی ، پھر اس سے لگنے والا پانی پاک ہوگا یا ناپاک ؟

Fatwa no.
2280-Aqs

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ نجس زمین خشک ہو جائے، تو اس پر نماز پڑھنا جائز ہے، البتہ تیم کے حق میں ناپاک ہے کہ اس سے تمیم نہیں ہو سکتا۔ سوال یہ ہے کہ جب اس زمین کو تیم کے لیے دھویا جائے گا، تو اس زمین سے لگنے والے پانی کا کیا حکم ہو گا؟ نماز والی صورت کا اعتبار کرتے ہوئے پاک تصور ہو گا یا تیم والی صورت کا اعتبار کرتے ہوئے ناپاک شمار ہو گا ؟

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں وہ پانی پاک ہی رہے گا، ناپاک نہیں ہو گا۔ مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ زمین کے ناپاک ہونے سے پہلے دو صف تھے : (1) طاہر (یعنی زمین پاک تھی)۔ (2) مظہر ( یعنی پاک کرنے والی بھی تھی۔ جب نجاست کی وجہ سے زمین ناپاک ہوئی، تو اس کے یہ دونوں وصف زائل ہو گئے اور پھر جب دھوپ وغیرہ کی وجہ سے خشک ہوئی، تو ان دو صفوں میں سے ایک وضف لوٹ آیا اور وہ ہے طاہر ( یعنی زمین کا پاک) ہونا، دوسر او صف مطہر (یعنی پاک کرنے والا) ہونا، یہ نہیں لوٹا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.