Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نماز کے ایک رکن میں تین بار کھجانے سے نماز کا حکم

Fatwa no.
7845-SAR

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایسے امام صاحب جو نماز میں ایک رکن میں تین سے زائد بار ہاتھ اٹھا کر خارش کریں اور یہ عمل اُن کی عادت میں شامل ہو ، تو ایسے امام صاحب کے پیچھے پڑھی گئی نمازوں کا کیا حکم ہو گا؟

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں امام صاحب نے جتنی نمازیں ایسے پڑھائیں کہ ایک رُکن، مثلاً قیام ، رکوع یا سجود میں کم از کم تین بار کھجانا پایا گیا تھا، وہ ساری نمازیں نہ ہوئیں، امام صاحب اور مقتدیوں پر اُن نمازوں کو لوٹاناضروری ہے، کیونکہ فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ نماز میں ایک رُکن میں تین مرتبہ ہاتھ اٹھانا عمل کثیر ہے اور نماز میں ہر وہ عمل جو عمل کثیر ہو ، نماز کو فاسد کر دیتا ہے، لہذا ایک رُکن میں تین بار کھجانے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے اور جتنی نمازوں میں امام صاحب نے یہ عمل کیا، امام صاحب کی وہ نمازیں ادا نہ ہوئیں اور جتنے لوگوں نے امام کے ساتھ یہ نمازیں پڑھیں اُن کی بھی نہ ہوئیں، کیونکہ مقتدی کی نماز کی…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.