Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
امام ، موذن کی تنخواہ مسجد کے چندے سے دینا
- Fatwa no.
- 7826-Sar
- Issued
- 16 شوال المکرم 1443 /18 مئی 2022 ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ محلے دار جامع مسجد کو چندہ دیتے ہیں جو مسجد کی تعمیر و دیگر اخراجات، مثلاً بجلی، گیس کے بل وغیرہ میں استعمال کرتے ہیں، کیا امام مسجد ، مؤذن صاحب کو وظیفہ بھی اسی مسجد کے چندے سے ادا کر سکتے ہیں؟
Answer (beginning)
مسجد کا چندہ مسجد میں کیے جانے والے عمومی اخراجات، مثلاً تعمیرات ، امام و مؤذن، خادمین کے وظائف اور صفائی ستھرائی میں ہونے والے اخراجات وغیرہ کے لیے دیا جاتا ہے ، لہذا مسجد کے چندے کی رقم سے خطیب، امام صاحب اور مؤذن و غیرہ کو وظیفہ (Salary) دینا جائز ہے، جبکہ تنخواہ اتنی ہو ، جو عام طور پر بنتی ہے ، لیکن اگر متولی نے عرف سے ہٹ کر بہت زیادہ تنخواہ مقرر کر دی، تو مسجد کی رقم سے اس کا تنخواہ دینا جائز نہیں اور اگر امام کو معلوم ہے کہ عرف سے ہٹ کر اتنی زیادہ تنخواہ مسجد کی رقم سے دی جارہی ہے ، تو اس کا لینا بھی جائز نہیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.