Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
سجدہ سہو کا ایک سجدہ رہ گیا تو نماز کا حکم
- Fatwa no.
- 7812-Sar
Question
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ نمازی نے بھول کر سجدہ سہو کے دو سجدوں میں سے ایک کیا اور نماز مکمل کرلی، تو نماز کا کیا حکم ہے؟
Answer (beginning)
شخص کو نماز میں سہ ہو ہوا، لیکن اس نے بھول کر دو سجدوں کے بجائے ایک ہی سجدہ کیا اور سلام پھیر دیا تو یہ ایک سجدہ کر لینا کافی نہیں ہو گا، کیونکہ بھول کر ہونے والی غلطی کی تلافی کے لیے دو سجدے کرناضروری ہے، جسے ”سجدہ سہو “ کہتے ہیں۔ حدیث مبارک اور صحابہ کرام رَضِيَ الله تَعَالیٰ عَنْهُم کے عمل سے یہی ثابت ہے، لہذا اگر کسی نے ایک سجدہ کیا اور سلام پھیر کر نماز مکمل کر لی مگر فور آیاد آگیا کہ میرا ایک سجدہ باقی ہے تو اگر کوئی ایسا کام نہیں کیا، جو نماز کے منافی ہو، مثلاً گفتگو وغیرہ، تو اُسی وقت دوبارہ قعدہ کے انداز میں بیٹھ کر ایک بقیہ سجدہ کرے، تشہد وغیر ہ پڑھے اور نماز مکمل کرلے، اس مسئلہ میں…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.