Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
Loan apps کے ذریعے قرض لینا کیسا ؟
- Fatwa no.
- 80-Uk
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ آج کل کچھ اس طرح کی موبائل ایپلی کیشنز آئی ہوئی ہیں جن کے ذریعے کوئی بھی آسانی سے قرض حاصل کر لیتا ہے۔ طریقہ یہ ہوتا ہے کہ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کر کے اپنی پرسنل انفار میشن جمع کروا کے اکاؤنٹ بنایا جاتا ہے اور پھر قرض کی درخواست دے دی جاتی ہے۔ عموما پہلی مرتبہ کم مقدار میں قرض ملتا ہے ، پھر اگر بر وقت واپس ادا کر دیا جائے تو دوسری بار زیادہ مقدار میں قرض ملتا ہے۔ قرض کی رقم آپ کے کسی اکاؤنٹ مثلا بینک اکاؤنٹ یا جاز کیش اکاؤنٹ وغیرہ میں آجاتی ہے اور اسی طرح آن لائن رقم بھیجنے کے ذرائع استعمال کر کے آپ وہ رقم واپس بھیج سکتے ہیں۔ قرض کے طور پر جتنی رقم دی جاتی ہے واپسی میں اس سے کچھ نہ کچھ زیادہ رقم دینی ہوتی ہے۔ بعض ایپلی کیشنز قرض پر اضافی رقم الگ سے لیتی ہیں اور سروس چار جز کے نام پر رقم الگ لیتی ہیں۔ مثلا آپ نے بارہ ہزار قرض کی درخواست کی ہے تو آپ کے اکاؤنٹ میں 9 ہزار آئیں گے۔ یعنی 5 سوروپے سروس چار جز کے اور پچیس سو (2500) روپے قرض پر جو اضافہ لینا ہے وہ پہلے ہی کاٹ لئے جائیں گے اور اب رقم واپس کرنی ہے تو پورے 12 ہزار واپس کرنے ہیں۔ اس تفصیل کے مطابق سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح کی ایپلی کیشنز کے ذریعے قرض لینا جائز ہے یا نہیں؟
Answer (beginning)
سوال میں ایپلی کیشنز سے قرض کے لین دین کا جو طریقہ بیان کیا گیا ہے ، یہ قطعی سود، یقینی حرام، گناہ کبیرہ اور خبیث عمل ہے کیونکہ قرض کے اوپر جو نفع طے کیا جاتا ہے وہ سود ہوتا ہے، جیسا کہ حدیث پاک میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "كل قرض جرمنفعة فهو ربا“ ترجمہ : ہر وہ قرض جو نفع کھینچے تو وہ سود ہے۔ (مسند الحارث، جلد 1، صفحہ 500، مركز خدمة السنة والسيرة النبوية، المدينة المنورة) جو لوگ اس طرح سودی قرض دیتے ہیں وہ معلون ہیں اور جہنم کے مستحق ہیں اور بلاضرورت شرعیہ ایسا قرض لینے والا بھی اسی کی مثل ملعون اور جہنم کا مستحق ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.