Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مسبوق سے اپنی نماز اداکرتے ہوئے واجب چھوٹ جائے تو سجدہ سہو کاحکم
- Fatwa no.
- 6939-Pin
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس بارے میں کہ اگر کوئی شخص فرضوں میں ایک یادور کعتیں فوت ہونے کے بعد امام کے ساتھ ملا اور امام صاحب پر کسی وجہ سے سجدہ سہو واجب ہو گیا، اس شخص نے امام کے ساتھ سجدہ سہو کر لیا، پھر جب وہ اپنی فوت شدہ رکعتیں ادا کرنے کے لئے کھڑا ہوا، تو اس پر دوبارہ سجدہ سہو واجب ہو گیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا وہ دوبارہ سجدہ سہو کرے گا یا پہلے والا ہی سجدہ سہو کافی ہو گا، جو امام کے ساتھ کیا تھا؟
Answer (beginning)
سائل: محمد ارشد (پنڈی بھٹیاں) مسبوق یعنی جس شخص کی کچھ رکعتیں فوت ہو گئیں ، اس نے امام کے ساتھ سجدہ سہو کیا، پھر وہ اپنی بقیہ نماز ادا کرنے کے لئے کھڑا ہوا اور اس میں بھی کسی وجہ سے سجدہ سہو واجب ہو گیا، تو وہ دوبارہ سجدہ سہو کرے گا، امام کے ساتھ کیا ہوا پہلے والا سجدہ سہو کافی نہیں ہو گا۔ یہاں بظاہر ایک ہی نماز میں دو سجدہ سہواداہورہے ہیں (جو شرعاً مشروع نہیں) لیکن یہاں یہ حکم اس لئے ہے، کہ مسبوق جب اپنی بقیہ نماز ادا کرتا ہے، تو وہ اس میں منفر د یعنی تنہا نماز ادا کرنے والے کے حکم میں ہوتا ہے ، اس اعتبار سے یہ حکمی طور پر دو نمازیں ہو گئیں، لہذا یہ دونوں سجدہ سہو ایک نماز میں نہیں ، بلکہ…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.