Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
زندگی میں جائیداد تقسیم کرنے کا طریقہ
- Fatwa no.
- 6938-Pin
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس بارے میں کہ اگر کوئی اپنی زندگی کے اندر ہی اپنی جائیداد اپنے بیٹے بیٹیوں میں تقسیم کرنا چاہتا ہو، تو اس حوالے سے شرعی رہنمائی فرمائیں کہ کیا طریقہ کار ہو گا؟
Answer (beginning)
ہر شخص کو اپنے تمام مملو کہ اموال ( وہ تمام مال کہ جس کا وہ مالک ہے) کے بارے میں اپنی زندگی میں اختیار ہوتا ہے ، چاہے تمام مال خرچ کر ڈالے یا کسی کو دے دے، اس کی زندگی میں اس کے مال میں اس کی اولا د یا کسی اور کا بطورِ وراثت کوئی حق نہیں، لہذا اس کا زبردستی مطالبہ بھی نہیں کر سکتے، البتہ اگر کوئی اپنا مال اپنی زندگی میں اولاد میں تقسیم کرے، تو بہتر ہے کہ بیٹوں اور بیٹیوں میں سب کو برابر، برابر دے، کیونکہ بیٹے کا بیٹی کی بنسبت ڈ گناوِراثت میں ہوتا ہے اور وراثت مرنے کے بعد ہوتی ہے، البتہ اگر بیٹے کو بیٹی کی بنسبت دگنا دے دیا، تو یہ بھی جائز ہے اور اگر اولاد میں سے کوئی فضیلت رکھتا ہو مثلاً طالب…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.