Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

پرچون کی دکان کے سامان پر زکوٰۃ کیسے نکالیں؟

Fatwa no.
7779-Sar

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ہماری پر چون کی دکان ہے ،اس میں بہت ساری چھوٹی چھوٹی چیزیں ہیں، مثلا : سوئیاں، کا من پہنیں، کیل، موتی و غیر ہا۔ اُن کا حساب لگانا اور گننا مشکل ہے کہ یہ کتی ہیں ، ہاں بطور دکاندار ایک اندازہ ضرور ہوتا ہے کہ یہ اتنے کی ہوں گی، تو کیا جن چیزوں کا گننا ممکن ہے ، انہیں گن لیں اور جن کا حساب مشکل ہے اُن کا اندازہ کر لیں اور زیادہ سے زیادہ اندازہ کر کے زکوۃ ادا کر دیں؟ تو یہ جائز ہوگا یا نہیں ؟

Answer (beginning)

زکوۃ نکالتے ہوئے اصل مال کی قیمت و مالیت معلوم ہونی چاہیے تاکہ اسی حساب سے زکوۃ کافر ئضہ ادا کیا جائے اور جہاں تک بالخصوص مالِ تجارت کی زکوۃ کا تعلق ہے، تو کسی بھی تاجر کے لیے اپنے مالِ تجارت کی مالیت کا حساب لگانا کوئی بہت مشکل کام نہیں ہے ، ہاں البتہ اگر سامانِ تجارت ایسا ہے کہ جس کا حساب لگانا واقعی انتہائی دشوار ہے، جیسا کہ سوال میں کچھ چیزوں کا ذکر کیا گیا، تو ایسی اشیاء کے لیے ظن غالب سے مالیت کا حساب لگایا جائے اور زکوۃ دیتے ہوئے ظن غالب سے تھوڑ از یادہ مال کا حساب رکھ کر ز کوۃ دی جائے، تاکہ فرض کی ادائیگی میں کسی طرح کی کوتاہی کا شبہ بھی باقی نہ رہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.