Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا نابالغ بچہ تراویح میں امامت کروا سکتا ہے ؟
- Fatwa no.
- 281-Mul
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ نابالغ بچہ کسی نماز کی امامت کرواسکتا ہے ؟ بالخصوص نماز تراویح کی ؟
Answer (beginning)
قوانین شریعت کے مطابق بالغ مقتدیوں کی امامت کے لیے امام کا بالغ ہو ناضروری ہے ، چاہے نماز فرض ہو یا نفل، تراویح کا بھی یہی حکم ہے۔ لہذا نا بالغ بچہ ، بالغ مقتدیوں کی امامت نہیں کرواسکتا، ہاں نا بالغ بچہ نا بالغوں کی امامت کروا سکتا ہے ،اس میں کوئی حرج نہیں۔ تنویر الابصار و در مختار میں ہے: ” ( ولا يصح اقتداء رجل بامراة وصبى مطلقا) ولو فى جنازة ونفل على الاصح “مرد (بالغ) کا عورت اور نابالغ بچے کی اقتدا کر نامطلقا درست نہیں،اگر چہ جنازہ اور نفل میں ہو ، اصح قول کے مطابق۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.