Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

زوجہ کی بھانجی سے دوسری شادی کرلی اب کیا حکم ہے؟

Fatwa no.
871-Aqs

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ میں نے دوسری شادی کی ہے جس کے 4 دن بعد پتہ چلا کہ یہ شادی میں نے پہلی بیوی کی بھانجی سے کرلی ہے ، اب میرے لیے کیا حکم ہے جبکہ ہم میں میاں بیوی والا تعلق بھی قائم ہو چکا ہے۔ نیز اب میں کس کو اپنے پاس رکھ سکتا ہوں ؟ نوٹ : دوسری شادی 6 سال بعد اولاد نہ ہونے کی وجہ سے کی ہے اور پہلی بیوی بھی نکاح میں ہے۔

Answer (beginning)

صورتِ مسئولہ میں آپ پر لازم ہے کہ زوجہ کی بھانجی کی عدت گزرنے تک اپنی پہلی والی بیوی سے بھی دور رہیں اور بھانجی جس سے نکاح کیا تھا اس کو ”میں نے تمہیں چھوڑ دیا یا اسی طرح کا دوسرا جملہ کہہ کر فورا خود سے الگ کر دیں نیز مقررہ مہر اور مہر مثل میں سے جو کم ہو وہ دیں، اب بھی پہلی بیوی نکاح میں ہے ، اور اسی کو رکھ سکتے ہیں۔ اور بیوی کی جس بھانجی سے نکاح کیا اس پر آپ کے چھوڑنے کے وقت سے عدت گزار ناواجب ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.