Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مدنی قافلے میں مختلف جگہوں پر جانے سے مسافر یا مقیم کا حکم

Answer (beginning)

سوال بسم الله الرحمن الرحيم شہر میں پندرہ دن ٹھہرنے کی نیت ہو اور پھر اس کے گاؤں میں جانا ہو تو نمازوں کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ جب ہم مدنی قافلے میں جاتے ہیں تو شرعی مسافت طے کرنے کے بعد مثلاً ایک شہر کے اندر پندرہ دن کی نیت کرتے ہیں لیکن اسی شہر میں ہم ایک جگہ نہیں رکتے بلکہ مختلف مساجد میں چلے جاتے ہیں ، جو ایک دوسرے سے تین تین چار چار کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہوتی ہیں۔ توکیا ہم وہاں پر مقیم رہیں گے ؟ اسی طرح اگر شہر سے اس کے قریبی گاؤں دیہات میں چلے جاتے ہیں، جو شہر سے شرعی مسافت پر نہیں، تو کیا حکم ہوگا ؟

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.