Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
پلاٹ کی مکمل قیمت ادا کرنے سے پہلے آگے بیچنا کیسا؟
- Answered by
- ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 11122-Lar
- Issued
- 16 جمادى الآخرة 1443ھ /20 جنوری 2022ء
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم چیز خریدنے کے بعد قیمت مکمل ادا کرنے سے پہلے آگے بیچنا دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہم نے کسی سے ایک متعین پلاٹ 10 لاکھ میں عقد صحیح کے ساتھ خریدا، اس کا ایڈوانس 3 لاکھ ادا کر دیا اور اس پر قبضہ بھی کرلیا اور بقیہ 7 لاکھ کی ادائیگی کے لیے 3 ماہ کی مدت طے پاگئی ۔ شرعی رہنمائی فرمائی جائے کہ ان 3 ماہ کے اندراندر، پوری قیمت ادا کرنے سے پہلے، وہ پلاٹ ہم کسی تیسرے فرد کو پرافٹ لے کر فروخت کر سکتے ہیں یا نہیں ، جبکہ بیچنے والے کی طرف سے کوئی ممانعت وغیرہ نہیں ہے ؟
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.