Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
تکبیر کے بعد چھری بدل کر ذبح کرنا کیسا؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں ذبح کیا گیا جانور حلال ہے۔ اس کی تفصیل کے لیے دو چیزوں کو سمجھنا ضروری ہے: (1): چھری کی تبدیلی ،(2): تسمیہ اور ذبح کے درمیان فصل کثیر و قلیل۔ (1) پہلی چیز کے حوالے سے عرض یہ ہے کہ چھری آلۂ ذبح ہے اور ذبح اختیاری میں تکبیر ، ذبیحہ پر پڑھی جاتی ہے نہ کہ آلۂ ذبح پر ۔ لہذا تکبیر پڑھنے کے بعد چھری تبدیل کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ یعنی ایک چھری پکڑ کر بسم اللہ پڑھی پھر دوسری چھری سے ذبح کیا تو جانور حلال ہی شمار ہو گا۔ (2) دوسری چیز کے حوالے سے تفصیل یہ ہے کہ قوانین شرعیہ کی رُو سے تکبیر اور ذبح کے در میان فصل کثیر (یعنی زیادہ وقفہ ) نہ ہو نا ضروری و شرط ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.