Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ذبح کرنے والے کا مذہب اور اسکے عقائد معلوم ہونا ضروری ہیں؟
Answer (beginning)
سوال کا جواب جاننے سے پہلے یہ سمجھ لیجیے کہ شریعت مطہرہ نے ہمیں ظاہر کا مکلف کیا ہے۔ جب کوئی شخص اپنا مسلمان ہونا بتا رہا ہو اور کوئی ایسی واضح دلیل یا علامت بھی نہ ہو جس سے اس کی غلط بیانی ثابت ہو تو اب ظاہر کا اعتبار کرتے ہوئے اس پر مسلمانوں والے احکام ہی جاری ہوں گے ، جب تک کہ یقین یا ظن غالب کے طور پر اس شخص کا کافر و مرتد ہونا ثابت نہ ہو جائے۔ دوسری بات یہ کہ دین اسلام حتی الامکان امور کو درستی پر محمول کرنے کا حکم دیتا ہے۔ جب کسی کام کا درست طریقے پر ہو نا معلوم ہو گیا تو محض شک و شبہ کی وجہ سے اسے حرام نہیں کہہ سکتے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.