Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
میت کے غیر ضروری بال کاٹنا کیسا؟
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم میت کے غیر ضروری بال دور کرنا کیسا دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ہمارے ہاں رائج ہے کہ انتقال کرنے والے مرد یا عورت کے غیر ضروری بال بڑے ہوں تو غسل میت دیتے وقت دور کئے جاتے ہیں، کیا یہ عمل شرعاً جائز ہے؟ جواب میت خواہ مرد ہو یا عورت اس کے بدن کے کسی حصے سے بال کاٹنایا مونڈنا شرعاً، ناجائز و مکروہ تحریمی ہے چاہے بال کتنے ہی بڑھ گئے ہوں اور اس کے متعلق حکم شرعی یہ ہے کہ میت جس حالت پر ہو اسے ویسے ہی رہنے دیا جائے یعنی اسی حالت پر غسل و کفن دے کر اس کی تدفین کر دی جائے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.