Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

وتر میں مقتدی تکبیر قنوت نہ کہے تو نماز کا کیا حکم ہے؟

Answer (beginning)

سوال بسم الله الرحمن الرحيم مقتندی نماز وتر میں تکبیر قوت نہ کہے تو نماز کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ رمضان میں وتر کی جماعت میں شامل مقتندی تکبیر قوت یہ سمجھتے ہوئے نہ کہے کہ مجھ پر تکبیر قوت کہنا واجب نہیں، تو اس کی نماز کا کیا حکم ہے ؟ رہنمائی فرمادیں ۔ جواب تکبیر قوت کہنا واجب ہے ، مقندی سے سہوا یعنی بھولے سے تکبیر قوت ترک ہو جائے تو امام کی اقتداء میں ہونے کی وجہ سے نہ تو سجدہ سہو واجب ہو گا ، نہ ہی نماز کے اعادہ کا حکم دیا جائے گا بلکہ امام کے ساتھ سلام پھیر تے ہی اس کی نماز مکمل ہو جائے گی ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.