Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

ٹوٹے سینگ والے بکرے کی قربانی جائز ہے؟

Answered by
مفتی فضیل رضا عطاری
Fatwa no.
4859-FMD
Issued
06 ذیقعدہ 1447ھ /24 اپریل 2026ء

Answer (beginning)

سوال بسم الله الرحمن الرحيم جس جانور کا سینگ ٹوٹا ہو، اس کی قربانی کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ہمارے یہاں قربانی کے لئے ایک بکرا آیا ہوا ہے لیکن اس کے دونوں سینگ آدھے آدھے ٹوٹے ہوئے ہیں، جبکہ اس کے علاوہ اس میں کوئی عیب نہیں ہے اور اس کی عمر بھی پوری ہے ۔ تو کیا اس بکرے کی قربانی ہو جائے گی یا نہی ؟ جواب قربانی کے جانور کے سینگ کا اگر کچھ حصہ ٹوٹ جائے تو اس کی قربانی جائز ہے، البتہ اگر سینگ جڑ سے ٹوٹ جائے اور اس کا زخم بھی بھرا نہ ہو تو ایسے جانور کی قربانی جائز نہیں ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.