Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ظالم کو معاف نہ کرنا یا دھوکے سے بدلہ لینا کیسا؟
- Fatwa no.
- 1276-FAM
Answer (beginning)
کرنے، برائی کرنے والے کے ساتھ بھلائی کرنے اور برائی کا جواب برائی سے نہ دینے پر تنبیہ ہے۔ (لمعات التنقیح فی شرح مشكاة المصابيح ، كتاب البيوع، باب الشركة والوكالة ، جلد 5، صفحہ 614 ، دار النوادر، دمشق) حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات : 1391ھ /1971ء) لکھتے ہیں : "علماء فرماتے ہیں کہ (مذکورہ) حدیث فتوی پر شامل ہو سکتی ہے اور تقوی پر بھی ، فتوی یہ ہے کہ خائن سے بقدر خیانت بدلہ لے سکتے ہیں ، (مثلاً) اگر کسی نے تمہارے سوروپے مار لیے تو جب کبھی وہ تمہارے پاس اپنی کچھ رقم امانت یا قرض دے تو اپنا حق وضع کر کے باقی مال اسے دو کہ یہ وضع خیانت نہیں بلکہ اپنا حق وصول…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.