Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا گناہ کا خیال آنا بھی گناہ ہے؟
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم کیا گناہ کے بارے میں صرف سوچنے سے بھی گناہ ہوتا ہے ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر ایک شخص گناہ کے بارے میں صرف سوچے تو بھی وہ گناہ گار ہو جاتا ہے یا پھر جب تک وہ گناہ کر نہیں لیتا وہ گناہ گار نہیں ہوتا ؟ جواب گناہ کے بارے میں سوچنا دو طرح کا ہے : ایک ہے دل و دماغ میں گناہ کا خیال آجانا یا ایسے خیال کا دل میں گھر کر جانا ، اس پر مؤاخذہ نہیں، نہ اس پر کوئی گناہ ہے جب تک کہ اس پر عمل نہ کرے، کیونکہ یہ در حقیقت وسوسہ ہے جو کہ حدیث پاک کی رو سے معاف ہے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.