Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

استخارہ یا فال سے چوری ثابت ہو سکتی ہے؟

Answer (beginning)

شریعت مطہرہ کی روشنی میں محض استخارے یا فال کے ذریعے چوری ثابت نہیں ہو سکتی ، نہ ہی اس سے موصول نتیجے کی بنیاد پر کسی کو چور قرار دیا جا سکتا ہے ، بلکہ یوں بلا ثبوت شرعی محض استخارہ یا فال کے ذریعے کسی پر چوری کا الزام لگانا یا لگوانا، یا اس سے موصول نتیجے کو صحیح سمجھنا خالصتاً بہتان اور دل آزاری کی صورت ہے ، اور مسلمان پر بہتان لگانا، اس کی دل آزاری کرنا، ناجائز و حرام اور سخت گناہ والے کام ہیں، جس سے بچنا لازم و ضروری ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.