Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
عذر کی وجہ سے قعدہ میں مختلف انداز سے بیٹھنا کیسا؟
- Answered by
- مفتی محمد قاسم عطاری
- Fatwa no.
- 9997-FSD
- Issued
- 02 ذوالحجۃ الحرام 1447ھ / 19 مئی 2026ء علم الافتاء اهلسنت
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم عذر کی وجہ سے نماز کے قعدے میں پاؤں اور گھٹنوں کے بل بیٹھنا کیسا ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص قیام اور زمین پر سجدہ آسانی سے کر لیتا ہے ، لیکن کسی مرض کی وجہ سے قعدہ یا جلسہ میں سنت طریقے کے مطابق نہیں بیٹھ سکتا، لہذا اس کے بیٹھنے کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ دونوں پاؤں کی انگلیاں موڑلیتا ہے اور پھر قدموں اور گھٹنوں پر وزن ڈالتے ہوئے سرین اٹھا کر قعدہ یا جلسہ کرتا ہے ۔ یعنی سمرین کو اپنی ٹانگوں پر بچھا کر بیٹھ نہیں سکتا ، بلکہ اٹھا لیتا ہے ۔ کیا شرعاً یہ عمل درست ہے ؟
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.