Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
غلطی سے زیادہ دی گئی زکوٰۃ اگلے سال میں شمار ہوگی؟
- Answered by
- مفتی محمد نوید رضا عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 6751-Har
- Issued
- 13 رمضان المبارک 1446ھ / 14 مارچ 2025ء
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم غلطی سے زیادہ دی جانے والی زکوۃ کو اگلے سال میں شمار کرنا دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرا کپڑوں کا کاروبار ہے ، اور اس کاروبار کو میرے بڑے بھائی دیکھتے ہیں ، لیکن ان کا اس میں کوئی شیئر نہیں ہے ، وہ تنخواہ پر کام کرتے ہیں، نیز میرے کاروبار کی زکوۃ کا سال یکم رمضان المبارک کو مکمل ہوتا ہے ، تو میں نے بھائی کو اسی دن کا روبار کا حساب کتاب لگانے کا کہا ، انہوں نے حساب کتاب لگا کر بتایا کہ دس لاکھ زکوۃ بن رہی ہے ، تو میں نے دس لاکھ زکوۃ ادا کر دی، پھر دوسرے دن جب مجھے فرصت ملی، تو ہم دونوں…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.