Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

عقیقے میں بڑا جانور قربان کرنے کا حکم

Answer (beginning)

سوال بسم الله الرحمن الرحيم عقیقے میں بڑا جانور قربان کر سکتے ہیں ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے دیہات میں رواج ہے کہ بعض اوقات بحری بچہ دے تواس پیدا ہونے والے بکرے یا بکری کے متعلق یہ ذہن بنا لیتے ہیں کہ جب گھر میں اللہ تعالیٰ کسی کو بچہ دے گا، تو ہم یہ بکرا یا بحری اُس کی طرف سے عقیقہ کے لیے قربان کریں گے ۔ اسی طرح بعض گھروں میں بھینس جب بچہ دے اور وہ ٹریعنی کو ہو، تو اس کے متعلق بھی یہ ارادہ کر لیتے ہیں کہ ہم اسے عقیقہ میں لگا دیں گے ۔ سوال یہ ہے کہ کیا بڑے جانور یعنی کٹے وغیرہ کو عقیقہ میں قربان کیا جاسکتا ہے؟

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.