Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ٹیٹو بنوانے کا حکم
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم جسم پر ٹیٹو بنا ہو تو وضو و غسل کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ جسم پر بعض لوگ سوئی یا مشین سے کھودائی کروا کر سرمہ وغیرہ بھر وا کر جسم پر مختلف جانوروں کے ٹیٹو بنواتے ہیں، شرعی رہنمائی درکار ہے کہ اس طرح کرنا کیسا ہے ؟ اگر کسی نے بنوالیا ہو تو اب اس کو ختم کروانا ضروری ہے یا نہیں جبکہ اب وہ جلد کے اندر جا چکا ہے ، اسے ختم کرنے کے لیے دوبارہ جلد کی چیر پھاڑ کرنی پڑے گی ؟ اس ٹیٹو کی موجودگی میں اس کا وضو ہو جاتا ہے یا نہیں ؟
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.