Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

انسانی خون کی خرید و فروخت کرنا کیسا؟

Answered by
مولانا محمد آصف عطاری مدنی
Fatwa no.
0089-JTL
Issued
16 ذوالحجۃ الحرام 1442ھ / 26 جولائی 2021ء

Answer (beginning)

سوال بسم الله الرحمن الرحيم انسانی خون کی خرید و فروخت کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ انسانی خون کی خرید و فروخت کرنا شرعاً کیسا ہے ؟ جواب انسانی خون کی خرید و فروخت کرنا شرعا جائز نہیں ، البتہ جس مسلمان کو ضرورت یا حاجت در پیش ہے اور بغیر قیمت لئے کوئی خون نہیں دیتا تو اسے قیمت دے کر خون لینا درست ہے لیکن اس کی قیمت لینا ، لینے والے کے حق میں جائز نہیں۔ صحیح بخاری کی حدیث پاک ہے ” ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن ثمن الدم “ ترجمہ : بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خون کے شمن سے منع کیا ہے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.