Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ایک خصیے والے بکرے کی قربانی کرنا کیسا؟
- Answered by
- مولانا سر فراز عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 1389-Mul
- Issued
- 23 ذیقعدہ 1446ھ /21 مئی 2025ء
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم بکرے کا ایک خصیہ پیدائشی نہ ہو تو قربانی کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے پاس ایک سال سے زیادہ عمر کا بکرا ہے ، اس کا پیدائشی طور پر ایک خصیہ (کپورا) نہیں ہے، مگروہ جفتی پر قادر ہے ۔ پوچھنا یہ ہے کہ اس کی قربانی جائز ہے یا نہیں ؟ جواب قوانین شرعیہ کے مطابق قربانی کے جس جانور کے دونوں کپورے اور عضو تناسل کو بھی کاٹ لیا جائے ، تو ایسے جانور کی قربانی جائز ہے، کیونکہ ان چیزوں کا جانور میں نہ ہونا کوئی عیب نہیں ہے کہ جس کی وجہ سے قربانی ناجائز ہو۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.