Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
حق مہر کی رقم قربانی سے مانع ہے یا نہیں؟
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم کون ساحق مہر قربانی کے وجوب سے مانع نہیں ہو گا ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کا حق مہر تیس لاکھ رکھا ہے ۔ جس کی ادائیگی کی کوئی تاریخ مقرر نہیں کی۔ اس شخص کے پاس حاجت سے زائد تین لاکھ کی مالیت سامان اور نقدی کی صورت میں موجود ہے۔ ایام قربانی میں بھی یہ مالیت برقرار رہے گی۔ کیا اس شخص پر قربانی واجب ہوگی ؟ اس کے علاوہ کوئی قرض نہیں ہے ۔ جواب صورت مسئولہ میں ایام قربانی میں اس مالیت کی موجودگی کی صورت میں اس شخص پر قربانی واجب ہوگی ۔ حق مہر کی رقم اس سے نکالی نہیں جائے گی۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.