Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
جانوروں کے لیے خریدے گئے چارے پر زکوٰۃ ہوگی؟
- Answered by
- مولانا محمد فراز عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 3154-Gul
- Issued
- 09 رمضان المبارک 1445 / 20 مارچ 2024 ء
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم تجارت کے جانوروں کے لیے خریدے گئے چارے پر زکوۃ کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید کا کیٹل فارم ہے جس میں وہ بیچنے کی نیت سے خریدے ہوئے سینکڑوں جانور رکھتا ہے پھر بیچ دیتا ہے ، چونکہ جانور کثیر تعداد میں ہوتے ہیں تو ان کے چارے میں استعمال ہونے والی چیزیں بھی بہت ساری خرید کر رکھنی پڑتی ہیں، کیونکہ بعض چیزیں مخصوص موسم میں ہی دستیاب ہوتی ہیں، لہذا پہلے سے ہی انہیں خرید کر رکھنا پڑتا ہے ، زید نے تقریبا چالیس لاکھ کا اسی طرح کا مال خرید کر رکھا ہے کیا اس مال پر بھی زکوۃ لازم ہوگی ؟
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.