Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

رمی بائیں ہاتھ سے کرنا کیسا؟

Answered by
مفتی محمد قاسم عطاری
Fatwa no.
10005-FSD دار الافتاء اهلسنت
Issued
05 ذوالحجۃ الحرام 1447ھ /22 مئی 2026ء

Answer (beginning)

سوال بسم الله الرحمن الرحيم کیا حج کی رمی دائیں ہاتھ سے کرنا ضروری ہے ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں پیدائشی طور پر بایاں ہاتھ زیادہ استعمال کرتا ہوں ۔ کھانے پینے میں کافی کوشش کر کے دائیں ہاتھ کو استعمال کرنے لگ گیا ہوں، لیکن مختلف چیزوں میں ابھی بھی بائیں ہاتھ کو ہی استعمال کرتا ہوں ۔ سوال یہ ہے کہ ابھی حج پر ہوں ، تو کیا ر می بائیں ہاتھ سے کر سکتا ہوں ؟ یا دایاں ہاتھ استعمال کرنا ضروری ہے ؟ جواب دائیں ہاتھ سے رمی کرنا مستحب ہے ، البتہ بائیں ہاتھ سے بھی جائز اور درست ہے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.