Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

ذبح کے وقت سر جسم سے جدا ہو جائے تو جانور کا حکم

Answer (beginning)

سوال بسم الله الرحمن الرحيم ذبح کے وقت جانور کا سر بالکل جدا ہو جائے تو ایسے ذبیحہ کا شرعی حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ اگر بوقت ذبح، ذبیحہ کا سر جدا ہو جائے مثلا مرغی و کبوتر وغیرہ تو اس کا کھانا درست ہے یا نہیں ؟ جواب جان بوجھ کر جانور اس طرح ذبح کرنا کہ چھری حرام مغز تک پہنچ جائے یا سرکٹ کر جدا ہو جائے ، مکروہ و ممنوع ہے کہ یہ جانور کو ضرورت سے زائد ایذا (تکلیف) دینا ہے ۔ جب کہ ہماری شریعت میں حکم ہے کہ جانور کو بلا ضرورت ایذا نہ دی جائے ۔ لہذا جان بوجھ کر اس طرح جانور ذبح کرنا تو ممنوع ہے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.