Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

بینک یا انشورنس کمپنی کو کمپیوٹر بیچنا جائز ہے؟

Answered by
مفتی محمد قاسم عطاری
Fatwa no.
1180-FAM
Issued
10 ذو القعدة الحرام 1447ھ / 28 اپریل 2026ء

Answer (beginning)

سوال بسم الله الرحمن الرحيم بینک یا انشورنس کمپنی کو کمپیوٹر بیچنا کیسا ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا بینک یا انشورنس کے ادارے کو یا اس جیسے کسی اور ادارے یا کمپنی کو کمپیوٹر وغیرہ بیچنا جائز ہے؟ جواب ایسے ادارے یا کمپنی کہ جن میں ناجائز و حرام کام بھی ہوتے ہیں، انہیں کمپیوٹ بیچنا شر عاممنوع نہیں ، جبکہ گناہ پر معاونت کی کوئی نیت نہ ہو؛ کیونکہ کمپیوٹر ایک ایسا آلہ ہے جس کا استعمال گناہ کے کاموں کے ساتھ متعین نہیں ہے ، استعمال کرنے والے پر منحصر ہے کہ وہ اسے کیسے استعمال کرتا ہے ، اور ایسی اشیا جو فی نفسہ اچھے اور برے…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.