Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

گروی کے بدلے دیے گئے قرض کی زکوٰۃ کس پر؟

Answer (beginning)

سوال بسم الله الرحمن الرحيم گروی کے بدلے قرض لیا تو اس کی زکوۃ کس پر لازم ہوگی ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ گروی رکھ کر مرتبین نے جو قرض دیا ہوتا ہے ، اس کی زکوۃ لازم ہوگی یا نہیں ؟ اگر لازم ہوگی تومر تہن پر لازم ہوگی یا راہن پر ؟ سائل : ساجد عطاری ( عزیز آباد) جواب گروی کے بدلے جور قم بطور قرض دی جاتی ہے اس کی زکوۃ بلاشبہ لازم ہے ۔ نیز شر عاقر ض پر دی ہوئی رقم کی زکوۃ ، مالک ، یعنی قرض دینے والے پر لازم ہوتی ہے ۔ لہذا اس قرض کی زکوۃ راہن (قرض لینے والے) پر نہیں بلکہ مرتہن (قرض دینے والے) پر لازم ہوگی ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.