Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ڈرانے سے موت واقع ہوجانے کا حکم
- Answered by
- مفتی محمد قاسم عطاری
- Fatwa no.
- 1183-FAM
- Issued
- 16 ذو القعدة الحرام 1447ھ /04 مئی 2026ء
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم کسی کو ڈرایا اور وہ شخص دل کا دورہ پڑنے سے وفات پا گیا، تو کیا حکم ہے ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر کسی شخص کو مذاق میں ڈرایا جائے اور اس ڈر کی وجہ سے اسے دل کا دورہ پڑ جائے جس سے اس کی موت واقع ہو جائے ، تو کیا اس کی موت کا ذمہ دار ڈرانے والا ہوگا ؟ جواب اگر کسی کو مذاق میں یا ویسے ہی اچانک ڈرایا جس سے دل کا دورہ پڑ کر اس کی موت واقع ہو گئی، تو فقہی اعتبار سے تو قتل کی کس قسم میں داخل ہو گا ، اس کا دارو مدار پوری صورت حال سامنے آنے پر ہے، البتہ فی نفسہ یہ فعل حرام و ناجائز ہوگا اور ڈرانے…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.