Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

غیر مُحرم حدود حرم میں جوں مار سکتا ہے؟

Answered by
ابوالحسن رضا محمد عطاری مدنی
Fatwa no.
13797-Nor
Issued
25 شوال المکرم 1446ھ /24 اپریل 2025ء

Answer (beginning)

سوال بسم الله الرحمن الرحيم غیر محرم کا حدود حرم میں جوں مارنا کیسا ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ جب حالت احرام میں نہ ہوں، تو حرم کی حدود میں رہتے ہوئے جوئیں مارنا کیسا ہے؟ جواب جو شخص حالت احرام میں نہ ہو اس پر حرم میں جوئیں مارنے پر نہ کوئی گناہ ہے ، نہ کوئی کفارہ لازم ہوگا۔ تفصیل اس مسئلہ کی یہ ہے کہ جوں مارنا اس وقت جرم قرار پاتا ہے ، جب بندہ حالت احرام میں ہو اور اپنے بدن یا کپڑے سے لے کر مارے یا مارنے کا سبب قصداً اختیار کرے کہ یہ بدن سے میل چھڑانا ہے اور حالت احرام میں میل چھڑانا منع ہے ، لہذا اگر محرم نے جوں اپنے بدن یا کپڑے سے…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.