Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بولی لگا کر خرید و فروخت کرنے کا حکم
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم بولی لگا کر قربانی کا جانور خریدنا دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا بولی لگا کر قربانی کے لیے جانور خرید نا ، جائز ہے ؟ سائل : (عاطف عطاری ، جھنگ) جواب بولی لگا کر اشیاء کی خرید و فروخت جائز ہے ، البتہ یہ بات ضروری ہے کہ اس خرید و فروخت میں کسی طرح کے دھو کے اور جھوٹ سے کام نہ لیا جائے ، مثلاً جس شخص کا خریدنے کا ارادہ نہ ہو، وہ اس لیے بولی لگائے کہ چیز کی قیمت مزید بڑھ جائے تاکہ اصل خریدار اس بولی کو سن کر مزید اوپر کی قیمت لگائے ، تو ایسے شخص (جس کا خریدنے کا ارادہ نہ ہو اس کا بولی میں شامل…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.