Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
شادی کی رات دو نفل پڑھنا
- Answered by
- مفتی محمد قاسم عطاری
- Fatwa no.
- 9921-FSD
- Issued
- 25 شوال المکرم 1447ء 14 اپریل 2026. Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami)
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم شادی کی پہلی رات دو نفل پڑھنے کا شرعی حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ بعض لوگوں سے سنا ہے کہ شادی کی پہلی رات دو نفل پڑھنے چاہیے ۔ اس سے رشتے میں خیر و برکت اور نئی زندگی کا اچھا آغاز ہوتا ہے کیا اس کی کوئی اصل موجود ہے ؟ جواب نماز باعث برکت، سبب نزول رحمت، ذریعہ سکون قلب اور حصار عافیت ہے ۔ اس کی برکات و ثمرات سے قطعاً انکار ممکن نہیں ۔ شادی کی پہلی رات یا زندگی میں کسی بھی وقت کہ جب شریعت اجازت دے ، اس وقت بارگاہ الہی میں حاضر ہونا یقینا بہت بڑی سعادت مندی اور خیر و فلاح کی بات ہے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.