Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
U 12967 Sarim Naam Rakhna Aur Iska Matlab
- Answered by
- مفتی محمد قاسم عطاری
- Fatwa no.
- 1162-FAM
- Issued
- 26 شوال المکرم 1447هـ / 15 اپریل 2026. دار الافتاء اهلسنت
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم صادم نام رکھنا کیسا ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا صارم نام رکھنا جائز ہے ؟ جواب صارم کے معنی تیز دھار والی تلوار، بہادر، جری“ کے ہیں، معنی کے اعتبار سے یہ نام رکھنا جائز ہے اور یہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے لقب سیف اللہ (اللہ کی تلوار) میں موجود سیف ہی کے معنی میں ہے اور شجاع کے معنی کے اعتبار سے بھی بہت سے بہ کرام علیہم الرضوان بلکہ نبی کریم سی نیلم کے وصف شجاعت کے معنی کا حامل ہے ۔ علامہ ابوالفضل محمد بن مکرم ابن منظور (سال وفات : 711ھ) لکھتے ہیں : ” الصارم : السيف القاطع ...
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.