Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بچوں سے چندہ جمع کروا سکتے ہیں؟
- Answered by
- مفتی محمد قاسم عطاری
- Fatwa no.
- 1151-FAM
- Issued
- 21 شوال المکرم 1447ھ / 10 اپریل 2026ء
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم نابالغ بچے سے چندہ جمع کروانا کیسا ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ نابالغ بچے سے چندہ جمع کروانا جائز ہے یا نہیں ؟ جواب نا بالغ کی اپنی رقم چندے میں نہیں دی جا سکتی البتہ دوسروں سے چندہ وصول کرنے میں حکم شرعی یہ ہے کہ ایسا نا بالغ بچہ جو سمجھ دار ہو یعنی اچھے برے کا اور بات چیت کا فہم رکھتا ہے اور قابل اطمینان ہو کہ پیسوں کی حفاظت اور چندہ کرنے کے شرعی احکام کی پاسداری کر سکے تو اس کے والدین کی اجازت کے ساتھ اس سے کسی کارخیر کے لیے چندہ جمع کروانا شرعاًجائز ہے لیکن ایک دوسرا پہلو پیش نظر رکھنا…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.