Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نماز تہجد فجر کے وقت میں ختم ہونے پر تہجد کا حکم؟
- Answered by
- مولانا محمد علی عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 7429-Pin
- Issued
- 17 رمضان المبارک 1445ھ / 28 مارچ 2024ء
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم تہجد کی نماز فجر کے وقت میں ختم ہوئی تو تہجد ادا ہو جائے گی یا نہیں ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کسی نے تہجد کی دو رکعت جلدی سے عشاء کے آخری وقت میں ادا کیں ، لیکن سلام پھیر کر دیکھا، تو نماز کے دوران ہی فجر کا وقت داخل ہو چکا تھا، تو فجر کے وقت میں نفل ادا کرنے کی وجہ سے کیا یہ گناہ گار ہو گا ؟ نیز اس کی تہجد کی نماز ادا ہو گئی ؟ جواب پوچھی گئی صورت میں وہ شخص گناہ گار نہیں ہوگا اور (بقیہ لوازمات کی موجودگی میں) اس کی تہجد کی نماز بھی ادا ہوجائے گی ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.