Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مضاربت میں نفع و نقصان کی تقسیم کا شرعی طریقہ

Answer (beginning)

سوال بسم الله الرحمن الرحيم مضاربت میں نفع و نقصان کی تقسیم کاری کیسے ہوگی؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر دو بندے مخصوص مدت کے لئے اس طرح کا روبار کریں کہ ایک بندہ دوسرے کو نقد رقم دے اور دوسرا اس سے کاروبار شروع کرے اور نفع ففٹی ففٹی طے کر لیں ، مثلاً ایک لاکھ روپے کسی دوسرے بندے کو دے ، دوسرا شخص اس رقم سے کتابیں خریدے، بیچے اور نفع آدھا آدھا رکھ لیں، توکیا یہ طریقہ کار شرعاً درست ہے ؟ اور خدانخواستہ نقصان ہو جائے ، تو وہ کس کے ذمے ڈالا جائے گا ؟

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.