Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

حجر ِاسود کے استلام کی شرعی حیثیت

Answer (beginning)

سوال بسم الله الرحمن الرحيم طواف میں حجر اسود کا استلام نہ کرنے حکم ہے ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ طواف میں حجر اسود کے استلام کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟ اگر کوئی طواف میں استلام نہ کرے ، تو کیا حکم ہے؟ جواب طواف کرنے والے کے لیے مسنون یہ ہے کہ طواف کے ہر چکر کی ابتداء میں اور سات چکر مکمل کرنے کے بعد حجر اسود کا بوسہ لے ، اگر ( رش کی وجہ سے ) یہ ممکن نہ ہو، تو اپنے ہاتھ سے حجر اسود کو چھو کر ہاتھ کو چوم لے اور یہ ممکن نہ ہو تو کسی لکڑی وغیرہ کو حجر اسود سے چھو کر اسے چومے، یہ بھی ممکن نہ ہو، تو حجر اسود کے بالکل مقابل…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.