Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
سوکھ جانے والے درختوں پر عشر کا حکم
Answer (beginning)
نفس الثمر وفي الاشجار المعدة للقطع “ترجمہ : ایک شخص کے متعلق سوال کیا گیا کہ جس کے پاس عشری زمین میں پھل دار درخت ہیں ، پھر اُس نے انہیں کاٹ دیا اور عشر وصول کرنے والا ان درختوں کا عشر لینا چاہتا ہے ، تو کیا اُسے یہ حق حاصل ہے ؟ جواب : نہیں ، خود پھل دار درختوں میں عشر واجب نہیں ، جیسا کہ زیلعی ، بحر اور دیگر کتب میں مذکور ہے ۔ ( میں کہتا ہوں) عشر تو صرف خود پھل میں واجب ہوتا ہے اور ان درختوں میں جو کاٹنے کے لیے تیار کیے گئے ہوں ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.